اسلامی عقائد، خدا کا وجود اور وحدانیت
في العقائد الابحاث المقدماتيةعلم عقائد میں دین کا مفہوم کیا ہے؟دین کتنے معانی میں استعمال ہوا ہے؟ اس درس میں ان معانی کی طرف اشارہ کیا ہے اسی طرح قرآن کریم میں دین کے تمام معانی استعمال ہوئے ہیں ۔ایک خوبصورت قرآنی مثال سے دین کے مفہوم کو پیش کیا ہے۔
علم عقائد کے ماہرین نے دین کی تعریف کس طرح کیا ہے؟ اس درس میں ماہرین عقائد کے نظریات کو مد نظر رکھتے ہوئے دین کے اصطلاحی مفہوم کو بیان کیا ہے کہ کس طرح دین، اصول دین فروع دین اور اخلاقیات میں تقسیم ہوتا ہے۔ اسی طرح احکام خمسہ اور اخلاق کی تعریف بھی بیان ہوئی ہے
اس درس میں لفظ اصول کا معنی اور مفہوم بیان ہوا ہے، اسی طرح اصول مذہب اور اصول اسلام کی تقسیم بھی بیان ہوئی ہے۔ اصول دین کے بارے میں اشاعرہ، معتزلہ اور شیعہ اثنا عشریہ کا نظریہ بھی بیان ہوا ہے اور یہ بھی بیان ہوا ہے کہ شیعہ اور غیر شیعہ کے درمیان اختلاف کن کن چیزوں میں ہے
اصول دین اور فروع دین کے درمیان کیا فرق ہے؟ فروع دین کا دائرہ کہاں تک ہے؟ کون کون سی چیزیں فروع دین کا حصہ ہے؟ اصول دین اور فروع دین میں انسان کی ذمہ داری کیا ہے؟ اصول دین میں تقلید کے جائز نہ ہونے کو بھی واضح کیا ہے۔
ضروریات دین سے کیا مراد ہے؟ کیا ضروریات دین میں تقلید ضروری ہے؟ کیا ضروریات دین کا منکر دین سے خارج ہو جاتا ہے؟ دین میں جستجو، غور و فکر اور تحقیق کرنا کیوں ضروری ہے؟ اس درس میں دین میں غور و فکر کرنے کی ضرورت پر پہلی عقلی دیلیل یعنی شکر منعم کا تذکر کیا ہے کہ نعمت دینے والے محسن کا شکر ادا کرنا کیوں ضروری ہے؟ یہ سب باتیں تفصیل کے ساتھ اس درس میں بیان ہوئی ہے۔
اس درس میں دین شناسی اور خدا شناسی کے متعلق ایک اور اہم دلیل بیان ہوئی ہے ایک بہت خوبصورت مثال کے ذریعے سے اس دلیل کو سمجھانے کی کوشش ہوئی ہے، یہ دلیل دین میں غور و فکر کی ضرورت پر دوسری عقلی دلیل ہے وہ دلیل عقلی احتمالی خطرے سے بچنا ہے، احتمالی خطرو ں سے بچنا ایک عقلی مسئلہ ہے، اس درس میں اس اہم دلیل کے سہارے سے دین میں غور و فکر کی ضرورت و سادہ لفظوں میں بیان کیا ہے
اس درس میں دین میں غور و فکر کی ضرورت پر تیسری عقلی دلیل پر مفصل گفتگو ہوئی ہے یہ دلیل بھی پہلے دونوں دلیلوں کی طرح بہت ہی دلچسپ ہے فلسفہ حیات اور مرنے کےبعد کی زندگی کا تصور، کائنات میں حاکم نظم و نسق انسان کو دین میں غور و فکر کرنے پر مجبور کرتا ہے، اس درس میں اس دلیل کو بہت ہی واضح اور سادہ لفظوں میں بیان کیا ہے۔
دین شناسی پر ایک اور اہم دلیل پیش ہوئی ہے، کہ انبیاء علیہم السلام کی اطاعت، ان کے لائی ہوئی شریعتوں میں غور و فکر کرنے سے انسان کس طرح توہمات اور گمانوں سے نکل آتا ہے، ہر انسان فطرتا روشنی کو پسند کرتا ہے، دین میں غور و فکر کرنا اسے نور علم سےمنور کرتا ہےاور جہالت کی تاریکی سے نجات دلاتا ہے۔
دین میں غور و فکر کرنے کی ایک اور اہم دلیل فوائد مادی اور معنوی کا حصول ہے دین میں ہی یہ سب فوائد قابل تصور ہے اس لئے عقل کا تقاضا یہ ہے کہ دین میں جستجو کرے، در حقیقت یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو فرض شناس بنا دیتا ہے، اس درس میں اس اہم دلیل کو واضح اور سادہ لفظوں میں بیان کیا ہے۔
دین و غور و فکر کرنے کی ایک انتہائی اہم دلیل حصول آرامش ہے یعنی دولت ثروت پیسہ اور دیگر مادی چیزیں انسان کو سکون نہیں پہنچا سکتی ہیں سکون صرف دین میں ہے، اس درس میں بیان ہوئی ہے کہ کس طرح دین پر عمل پیرا ہو کر سکون اور اطمئنان کی دولت سے مالا مال ہو سکتا ہے۔ اس طرح اس درس میں یہ بھی بیان ہوئی کہ انسان کس طرح اپنی زندگی کو ہدفمند بنا سکتا ہے۔
دین شناسی کا ایک اہم فائدہ جذبۂ خدمت خلق ہے، جو ا نسان دیندار ہوتا ہے اس میں خلق خدا کی خدمت کرنے کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے یہی جذبہ معاشرے کو فلاح و بہبود کی راہ پر گامزن کرتا ہے، اس درس میں اس اہم فائدے کو واضح اور سادہ لفظوں میں بیان کیا ہے۔
اس درس میں عقائد اور اصول دین کے حصول کے سرچشموں کو بیان کیا ہے، پہلا سرچشمہ عقل ہے، اس عقل کے ذریعے سے انسان توحید، نبوت وغیرہ پر ایمان رکھتا ہے، دوسرا سرچشمہ، وحی الہی ہے، اس درس میں ان دونوں سرچشموں سے اصول دین اور عقائد کو حاصل کرنے کی راہوں کو بیان کیا ہے۔
جب انسان کا اس چیز پر یقین ہو کہ انبیاء کارابطہ عالم اعلی سے ہے اور وہ اللہ کے پیغامات کو دریافت کرنے میں خطا نہیں کرتے ہیں تو عقل کہتی ہے کہ ان کے پیغامات انسان کی سعادت ابدی کا ضامن ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عقل اور وحی کے درمیان رابطہ کیا ہے؟ اور کیا یہ ممکن ہے کہ عقل اور وحی میں تضاد اور تناقض ایجاد ہوجائے؟ اس درس میں ان سوالوں کا جواب دیاہے۔
قرآن کی نگاہ میں انسان کی حیثیت کیا ہے؟ حقیقت انسانیت کیاہے؟ موت کس طرح انسان کے لیے کمال ہے؟ دنیا میں انسان کیوں آیا ہے؟ سعادت ابدی کے لیے کیا کرنا ہے؟ اس درس میں یہ اور ان جیسے کئی ایک سوالات کے جواب دئیے گئے ہیں۔
انسان کا حقیقی طرہ امتیاز کیا ہے؟ انسان کی خلقت فطرت پر ہونے کا مطلب کیا ہے؟ قرآن کی نگاہ میں انسان کا مقام کیا ہے؟ انسان کے فاعل مختار ہونے اور اشرف المخلوقات ہونے میں کیا رابطہ ہے؟ انسان کو آزمائش کے خلق کرنے کا کیا مطلب ہے؟ اس درس میں ان سوالوں کا واضح جواب دیا ہے۔
انسان کے مسئول اور ذمہ دار ہونے کا مطلب کیا ہے؟ قیامت کے دن انسان سے اس کے ہر ایک حرکات و سکنات کے بارے میں پوچھے جانے کا مطلب کیا ہے؟ اس درس میں ان جیسے کئی ایک سوالات کا تفصیلی جواب دیا ہے
انسان کی ذاتی اور معاشرتی حیثیت کے بارے میں قرآن کریم کا نقطہ نظر کیا ہے؟ قرآن کریم نے کس طرح خودساختہ اصولوں، قومی اور لسانی تعصبات کی نفی کی ہے؟ اس درس میں ان تمام باتوں کو واضح اور دلیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔
کرامت انسانی کیا ہے؟ کائنات کی سبھی اشیاء انسان کی خاطر خلق ہوئی ہے، اس کائنات میں اتنی نعمتیں ہیں کہ انسان حساب بھی نہیں کر سکتا ہے یہ سب انسان کی خاطر ہے پس روح اور نفس بدن کو جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ انسان کے ارد گرد ہے۔ اس درس میں ان تمام سوالات کا جواب دیا ہے۔
موجودات عالم ممکن الوجود ہے، انسان کا وجود بھی ممکن الوجود ہے، انسان فقیر محض ہے اللہ کی ذات غنی محض ہے یہ سب اشیاء بشمول انسان اپنے وجود کی بقاء کے لیے اللہ کی طرف محتاج ہے اس درس میں اس اہم فلسفی جملے کی وضاحت ہوئی ہے۔
قرآن کریم انسانوں کے لیے ایک روشن مستقبل کی نوید سنا رہا ہے وہ نوید کیا ہے؟ زمین کا حقیقی وارث قرآن کی نگاہ میں کون ہے؟ معاد جسمانی کی مختصر وضاحت اور عالم ہستی کے بارے میں قرآن کریم کا نقطہ نگاہ بھی اس درس میں بیان ہوئی ہے۔
دوام فیض الہی دوام وجود عالم ہستی کا سبب ہے یہ خوبصورت نظام اس وقت تک خوبصورت جب تک اسے اللہ کی طرف سے فیض ملتا رہے، اس درس میں یہ بھی بیان ہوئی ہے یہ کائنات مسلسل تبدیلی کی حالت میں ہے جو حالت آج ہے وہ کل نہیں رہے گا۔ اس بات کو قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں بیان کیا ہے۔
قرآن کریم کی نظر میں عالم ہستی کی حقیقت، مادہ پرستوں کے نزدیک عالم ہستی، عالم ہستی صرف یہی مادی عالم نہیں ہے، دین کی نگاہ میں عالم کا تصور مادہ اور مادیات سے ہٹ کر ہے، اس درس میں ان سب پر تفصیل س گفتگو ہوئی ہے۔
اللہ تعالی کے وجود کو ثابت کرنے والی دلیلوں کی فہرست بیان کیا ہے واجب الوجود اور ممکن الوجود کی تقسیم کس طرح ہے؟ تسلسل کیا ہے اور یہ کیوں باطل ہے؟ بعض اصطلاحات جیسے دور، تسلسل ممکن ارو واجب کی وضاحت یہ سب باتیں اس درس میں بیان کی جائے گی۔
اللہ تعالی کے وجود پر بحث و گفتگو کب سے شروع ہوئی؟ ارسط اور نظریہ وجود خدا، ملحد اور زندیق اور وجود خدا، دین مسیحیت اور وجود خدا، بعد از حضرت عیسی وجود خدا کے بارے میں گفتگو، کائنات کا ایٹم سے بننے والے نظریہ کس نے پیش کیا؟ یہ سب اس درس میں بیان کی جائے گی۔
وجود خدا کے بارے میں بحث و گفتگو تاریخ میں ہمیشہ سے تھی اس بات پر بعض اہم قرائن اور شواہد بیان ہوئے ہیں، دین مسیح حضرت عیسی کے عروج کے بعد کیا ہوا اور اس دین میں کس طرح وجود خدا کے بارے میں بحث ہوتی تھی یہ سب اس درس میں بیان ہوئی ہے۔
قرآن کریم کی رو سے وجود خدا پر یقین ایک فطری امر ہے، مشرکین سے جب خالق آسمان و زمین کے بارے پوچھا جاتا تھا تو وہ اللہ ہی کا نام لیتے تھے لیکن پھر بھی مشرک کیوں رہے اس کا جواب اس درس میں دیا ہے اور بعض اہم حکایات مشرکوں کی زبانی قرآن نے بیان کیا ہے وہ بھی اس درس میں آپ سنیں گے۔
اس درس میں فطرت سے متعلق مزید دلائل پیش کیا ہے ان دلائل میں سے ایک کمال دوست، حسن پسندی ہے یہ ذاتی امر ہے اس میں ہر انسان یکساں ہیں۔ قرآن کریم اور احادیث کے علاوہ سماجیات کے ماہرین کے آراء کی روشنی میں اس بحث کو واضح انداز میں بیان ہوئی ہے۔
فطرت کا ایک اور پہلو بیان ہوا ہے، وہ شعور ہے توجہ ہے خدا کی طرف متوجہ ہونا خالق کی طرف متوجہ ہونا فطرت پر ایک اور دلیل ہے، دعائے عرفہ کے جملات کے رو سے اس اہم نکتے کو واضح کیا ہے۔ اسی طرح ایک فلاسفر کے نظریے کے مطابق اس بات کو مدلل انداز میں بیان کیا ہے۔
اس درس میں روایات اور احادیث کی رو سے فطرت کو واضح کیا ہے، آیہ فطرت کی تفسیر میں امام باقر علیہ السلام کی حدیث کو بھی واضح انداز میں بیان کیا ہے۔ روایات کی رو سے فطرت کی بعض دیگر مصادیق بھی واضح کیا ہے۔
فطرت سے متعلق گذشتہ ابحاث کا ایک خلاصہ پیش کیا گیاہے۔ کلمبیا یونیورسٹی کے کسی پروفیسر کے نظریے کو بھی بعنوان دلیل پیش کیا ہے کہ وہ دین کے بارے میں کیا نظریہ رکھتا ہے۔
وجود خدا پر یقین ایک فطری امر ہے، اس اہم دلیل پر کئی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں ان میں سے ایک اعتراض تھا کہ دین کے بارے میں جستجو، تحقیق خدا کے وجود پر یقین ایک فطری امر نہیں ہے بلکہ ماحولیاتی اثرات، ماں باپ کی تقلید اور بعض دیگر عوامل کی وجہ سے ہے۔ اس اعتراض کا جواب دیا ہے۔
اس درس میں لفظ نظم کے بارے میں بعض اہم نکات کو بیان کیا ہے، ہمارے روز مرہ کے استعمال ہونے والی اشیاء میں نظم، کمپیوٹر میں نظم، سافٹ وئیر ہارڈ وئیر وغیرہ میں نظم جیسے مثالوں سے اس نظم کو واضح کیاہے۔
اس درس میں نظم کو بعض دیگر مثالوں کے ذریعے سے واضح کیا ہے ان میں سے ایک چیز پانی ہے پانی کے مختلف اقسام ہیں ان سب میں کس طرح نظم و نسق پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس طبیعت کے دیگر اشیاء میں نظم و نسق کی طرف بھی اشارہ کیاہے۔
ایک درس میں ایک اور مثال بیان ہوئی ہے۔ وہ ایلمنٹریکل سسٹم ہے اس درس میں اس سسٹم کو واضح اور مثالوں کے ذریعے سے بیان کیا ہے۔ اس سسٹم کے تحت بری اور بحری جانوروں کی زندگی پر تاثیر کو بھی واضح کیا ہے۔
ہر چیز کا اپنی جگہ پر ہونا ایک نظم ہے ، انسانی مصنوعات میں میں نظم و ترتیب و غیرہ میں غور کرنے سے انسان کو اللہ پر یقین ہوتا ہے، اسی طرح جانوروں کی ساخت میں دقت کے بارے میں واضح انداز میں بیان ہوا ہے۔
برہان نظم کو مزید مثالوں سے واضح کیا ہے، اس درس میں برہان نظم کی وضاحت میں ناظم کی کرشماتی قدرت، حسن، دقت اور علم و غیرہ کا کارفرما ہونا وغیرہ بیان کیا ہے۔ کائنات کی خلقت میں نظم کو بھی واضح کیا ہے۔
اللہ تعالی کی علم اور قدرت کا خلقت کائنات میں کارفرما ہونا نظم کی حقیقت ہے۔ اس درس میں برہان نظم کی خصوصیات بیان ہوئی ہے کہ اس برہان کو قائم کرنے بعد انسان میں کیا تبدیلی آتی ہے۔
برہان نظم کے حوالے سے انسانی ایجادات اور اللہ کے مخلوقات میں فرق کو واضح کیاہے کہ اللہ کے مخلوقات وجود اور بقاء میں خالق کی طرف محتاج ہیں لیکن انسانی مصنوعات ایسے نہیں ہیں۔
اس درس میں برہان نظم کا ایک خلاصہ پیش کیا ہے اور ساتھ ساتھ مثالیں بھی پیش کیا ہے۔ مصنوعات بشر اور اللہ کے مخلوقات میں تشابہہ کو واضح کیاہے اس طرح برہان نظم کے بارے شبہات کی طرف بھی اشارہ ہوا ہے
اس درس میں ایک نہایت ہی اہم شبہہ کو بیان کیا ہے وہ یہ کہ اگر چہ جو چیزیں انسانوں نے مشاہدہ کیا ہے ان میں نظم ہے لیکن مجہولات میں بھی یہی صورتحال ہے یہ کہاں سے ثابت ہے؟ اس شبہہ کا جواب بھی بیان کیاہے۔
ایک اور شبہہ برہان نظم پر یہ تھی کہ اللہ تعالی کے مصنوعات کو بشری مصنوعات سےتشبیہ دیا گیا ۔ اس درس میں اس شبہہ کی تفصیلات اور اس کا مکمل جواب بھی پیش کیا ہے۔ اسی ذیل میں لفظ وجود کے متعدد معانی کو بھی بیان کیا ہے اور صفات خدا اور صفات انسان میں فرق کو بھی واضح کیا ہے
یہ درس گذشتہ درس کا تکملہ ہے اس میں مزید واضح انداز میں اقسام وجود کی وضاحت کی ہے، اللہ کے وجود کا بے نیاز ہونا اور ہمارے وجود کا نیازمند ہونا یہ سب اس میں تفصیل سے بحث ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ برہان نظم کے شبہہے کو کئی اور مثالوں کے ذریعے واضح کیا ہے
ایک اور اہم شبہہ یہ کیا گیا ہے کہ اگر چہ اس کائنات کی تمام چیزیں مفید ہیں مثلا نباتات حیوانوں غذا ہے بعض چیزیں انسانوں کے لیے مفید ہیں وغیرہ لیکن اس کائنات کی سبھی چیزیں تو ابھی انسان کی میں نہیں ہے اسے محدود چیزوں پر علم ہے پس یہ ہو سکتا ہے کہ مجہولات میں بد نظمی پائی جائے۔ اس درس میں اس شبہہ کو واضح انداز میں پیش کیا گیا ہے اور اس کے جواب دینے کی کوشش ہوئی ہے
ایک اور اشکال برہان نظم پر یہ ہے کہ کائنات میں اکثر چیزوں میں تو خیر ہی خیر ہے لیکن ممکن ہےبعض چیزوں میں شر کا پہلو بھی ہو۔ اس درس میں اس شبہہ کو مثالوں سے واضح کیا ہے اور اس کا جواب دیا گیا ہے۔ تمام اشکالات کے جواب دینے کے بعد برہان نظم کی حقانیت پر واضح انداز میں بحث ہوئی ہے۔ یہ برہان توحیدی بحثوں میں ایک مضبوط دلیل ہے۔
گذشتہ ابحاث پر ایک طائرانہ نظر، "تسلسل" اور "دور" نامی اصطلاح کی وضاحت ہوئی ہے۔ کیونکہ یہی اصطلاحات ہماری آنے والی بحثوں کی چابی ہیں۔ انسانی نسلوں کے تسلسل سے تسلسل کی وضاحت بھی بیان ہوئی ہے۔
اس درس میں "دور" کی وضاحت ہوئی ہے، دور کا فلسفیانہ جائزہ، دور کی مثالوں سے وضاحت بھی ہوئی ہے۔ ان میں سے ایک نہایت ہی عرفی مثال کے ذریعے سے دور کی وضاحت کی ہے۔
اللہ کے وجود پر عقلی دلائل کے سلسلے میں دو اصطلاحات کی وضاحت بیان ہوئی ہے وہ دو اصطلاحات؛ واجب الوجود اور ممکن الوجود ہے۔ در حقیقت یہ وجود کی تقسیم ہے۔ اسی طرح واجب الوجود بذاتہ لذاتہ کی بھی وضاحت کی ہے۔ اسی طرح ممتنع الوجود کی طرف بھی اشارہ ہوا ہے۔
"دور" کس طرح باطل ہے؟ اس درس میں بطلان دور پر دلائل پیش کئے گئے ہیں یہ بھی واضح کیا ہے کہ دور کس طرح اجتماع نقیضین تک پہنچ جاتا ہے۔اسی طرح تسلسل کے باطل ہونے بھی واضح انداز میں بیان کیا ہے۔
تسلسل کے بطلان پر مزید دلائل بمعہ امثلہ پیش کئے ہیں۔ اللہ کو ماننے والے اور نہ ماننے والے دنوں نقطۂ آغاز (starting point)کے قائل ہیں اور یہی بطلان تسلسل کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ جب کسی چیز کا نقطہ آغاز ہے تو ضرور اس کا نقطہ آخر (ending point)بھی ہے ۔یہی تسلسل کو باطل کرنے کے لیے کافی ہے۔
اس درس میں اسٹارٹنگ پوائنٹ اور حدوث کے بارے میں تفصیل سے گفتگو ہوئی ہے یہ بھی واضح کیا ہے کہ نقطہ آغاز حادث اور ممکن الوجود ہے انسان ہو یا دوسرے حیوانات۔ پس ممکن الوجود کی انتہاء واجب تک پہنچ جاتی ہے
عن هذا الفصل
📚 کورس کا تعارف
کیا آپ اپنے ایمان کو اندھی تقلید سے نکال کر مضبوط عقلی اور فطرتی بنیادوں پر استوار کرنا چاہتے ہیں؟ اس مادی دور میں جہاں الحاد (Atheism) اور مختلف شکوک و شبہات نوجوان نسل کے عقائد پر حملہ آور ہیں، اپنے بنیادی اسلامی عقائد کا گہرا اور علمی شعور حاصل کرنا ہر مسلمان کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔
"اسلامی عقائد، خدا کا وجود اور وحدانیت" ایک انتہائی اہم اور فکری کورس ہے جو آپ کے ایمانی نظریات کو پختہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس علمی سفر میں نامور محقق اور مایہ ناز استاد حجت الاسلام محمد علی رمضانی صاحب اپنے منفرد، سادہ اور دلنشین اندازِ تدریس کے ساتھ 50 دروس میں آپ کی رہنمائی کریں گے، تاکہ آپ خدا شناسی اور توحید کے اعلیٰ مراتب کو عقلی و نقلی دلائل کے ساتھ سمجھ سکیں۔
🎯 کورس کے اہداف
🧠 دین کی لغوی و اصطلاحی حقیقت اور اس کی ضرورت کو گہرائی سے سمجھنا۔
⚖️ اصولِ دین اور فروعِ دین کے بنیادی فرق اور دین میں غور و فکر کی اہمیت سے آگاہی۔
🌌 اسلام کے نکتہ نظر سے کائنات (عالمِ ہستی) اور اس میں انسان کے اصل مقام و منزلت کی پہچان۔
🛡️ خدا کے وجود پر قائم کی جانے والی عقلی و فطرتی دلیلوں کو سیکھنا اور جدید دور کے شبہات کا ٹھوس جواب دینا۔
✨ کورس کے فوائد
مستحکم عقائد: یہ کورس آپ کو روایتی عقائد سے آگے بڑھا کر محققانہ اور مضبوط عقیدے کی دولت سے مالا مال کرے گا۔
شکوک و شبہات کا ازالہ: برہانِ نظم اور دلیلِ فطرت پر ہونے والے جدید اعتراضات کے ایسے علمی جوابات جو آپ کے ذهن کو مطمئن کر دیں گے۔
ماہر استاد کی سرپرستی: پیچیدہ کلامی اور فلسفیانہ مسائل کو استاد محمد علی رمضانی جیسے جید اور تجربہ کار استاد سے انتہائی عام فہم زبان میں سیکھنے کا سنہری موقع۔
آن لائن اور آسان رسائی: اس کورس کو آپ اپنے گھر بیٹھے، اپنی سہولت اور وقت کے مطابق مکمل کرسکتے ہیں۔
👥 مخاطبین (یہ کورس کس کے لیے ہے؟)
🎓 یونیورسٹی، کالج اور مدارس کے وہ طلبہ جو جدید فکری چیلنجز اور الحادی نظریات کا علمی مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔
🕌 ہر وہ مسلمان جو اپنے اصولِ دین اور عقائد کی بنیادوں کو اندھی تقلید کے بجائے محکم دلیلوں پر قائم کرنا چاہتا ہے۔
🎤 اساتذہ، مبلغین اور خطبا جو توحید اور خدا شناسی کے موضوع پر مؤثر اور عقلی انداز میں گفتگو کرنا سیکھنا چاہتے ہیں۔
📑 کورس کے اہم عنوانات (سلیبس)
یہ کورس کل 50 اہم دروس پر مشتمل ہے، جن کے بنیادی اور کلیدی موضوعات درج ذیل ہیں:
دین کی حقیقت اور تفکر: دین کے لغوی و اصطلاحی معنی، اصولِ دین کی تعداد، اصول اور فروع میں فرق، اور دین میں تدبر کی ضرورت۔
عقائد کے منابع اور انسان کا مقام: اسلامی عقائد حاصل کرنے کے معتبر ذرائع، اور اسلام کی نظر میں انسان اور عالمِ ہستی کا فلسفہ۔
اثباتِ باری تعالیٰ (خدا کا وجود): خدا کے وجود کو ثابت کرنے والی محکم اور ناقابلِ تردید دلیلیں۔
دلیلِ فطرت: اللہ کے وجود پر یقین رکھنے کا فطرتی تقاضا اور دلیلِ فطرت پر کیے جانے والے اعتراضات کے مدلل جوابات۔
برہانِ نظم اور عقلی دلائل: کائنات کے نظام (برہانِ نظم) سے استدلال، اس کے بارے میں پیدا ہونے والے شبہات کا ازالہ، اور خدا کے وجود پر دیگر مضبوط عقلی دلیلیں۔