اسلامی عقائد، خدا کی وحدانیت، صفات اور اسماء
در عقائد مقدماتیاس درس میں اللہ کے وجود پر لائی گئی دلائل کا ایک خلاصہ پیش کیا ہے، اس کے بعد اللہ تعالی کی صفات اور اسماء کے ابحاث کا مقدمہ پیش کیا ہے۔ توحید در ذات توحید در صفات اور توحید در افعال کی تعریف، اسم اور صفت کے لفظ کی وضاحت بھی بیان ہوئی ہے۔
اس درس میں وجود باریٔ تعالی کے کمال مطلق ہونے، علم، قدرت اور دیگر صفات پروردگار کے لامنتاہی ہونے، عقل کا اللہ تعالی کی معرفت حاصل کرنے، نظریہ تشبیہ کی حقیقت، نظریہ تشبیہ کے ماننے والے کے دلائل اور اس دلیل کے باطل ہونے کو بیان کیا ہے۔
اس درس میں نظریہ تشبیہ کی مزید وضاحت بیان کیا ہے، اس نظریہ کے بطلان پر دلائل، اسی طرح نظریہ تنزیہ کی حقیقت اور اس کا نقد و تجزئہ بھی بیان ہوا ہے، صرف عقل ہی معرفت پروردگار کےحصول کے راستے ہونے کو بھی بمعہ دلائل کےبیان کیا ہے۔
اس درس میں گذشتہ تین دروس کا ایک خلاصہ پیش کیا ہے۔ اس درس میں اللہ تعالی کی اسماء اور صفات کی شناخت کے امکان پر استعداد عقل سے دلیل پیش کیا ہے اور ساتھ ہی بعض باتوں کی نفی بھی ضرورت ہے، وہ کون سی چیزیں ہیں جن کی نفی ضروری ہے وہ بھی اس درس میں بیان ہوئی ہے۔
نظریہ تشبیہ کے بطلان پر امام رضا کی حدیث کتاب التوحید شیخ صدوق میں اور دیگر روایات اور آیات کی طرف اشارہ، نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر 1 میں موجود فرمان کے مطابق "نفی صفات" کی وضاحت اوراسی خطبہ کے بعض دیگر جملات کی وضاحت ہوئی ہے۔
حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے فرمان کے فرمان کی روشنی میں صفت کے غیر موصوف ہونے، اللہ ذات میں صفات کے عین ذات ہونے کو واضح کیا ہے اور اگر اس کے صفات کو ذات سے الگ کیا جائے تو کیا مشکل پیش آئے گا؟ اس کے بارے میں مولا کا فرمان بیان کیاہے۔
اس درس میں صفات ذاتی اور صفات فعلی کی طرف اشارہ، بعض ذاتی صفتوں کی وضاحت بھی بیان ہوئی ہے اور ساتھ ساتھ ذات کبریا کی بساطت کو بھی دلیل کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔
اسماء اور صفات باری تعالی کا توقیفی ہونا، توقیفی کا مطلب کیاہے، توقیفی ہونے میں متکلمین کے درمیان دو نظریہ کا بیان اور اسی طرح مخلوقات کے مظہر کمال پرودگار ہونے اور انسانی صلاحیتوں کا عطائے پروردگار ہونے کو واضح انداز میں بیان کیا ہے۔
اس درس میں اس اہم نکتہ کو بیان کیا ہے کہ یہ کائنات علل ومعلولات کے ایک سلسلے کا نام ہے، تمام علل کی انتہاء اللہ کی ذات پر ہے،علت کے اقسام، علت حقیقی اور علت اعدادی کا مطلب بھی واضح کیا ہے۔ مخلوقات کا حدوث اور بقاء دونوں میں اللہ کی طرف محتاج ہونے کو بھی واضح کیا ہے۔
اس درس میں علت کی ایک اور تقسیم بیان ہوئی ہے، علت انحصاری اور غیر انحصاری کی بمعہ مثال وضاحت اور علت حقیقی کا علت انحصاری ہونا بھی واضح انداز میں بیان ہوئی ہے۔
اس درس میں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ اللہ تعالی ذات مبداء سلسلہ فیض ہے، جب تک اللہ مشیت شامل رہے فیض کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ابدی، ازلی اور سرمدی وجود کی وضاحت، خالقیت پردرگار کا صفت فعلی ہونا وغیرہ بیان ہوا ہے۔
اس درس میں آیات کی روشنی میں اللہ تعالی کی حیات کو واضح بیان کیا ہے، اور یہ بھی بیان کیا ہے کہ اللہ تعالی کی وجود مبارک سرمدی ہے، اسی طرح باقی صفات کا حیات سے رابطہ کیا ہے اس کو بھی دلیلوں سے واضح کیا ہے۔
اللہ تعالی کا ہمیشہ زندہ ہونایہ اللہ تعالی کی صفات ذاتی میں سے ہے، علماء اور متکلمین کے نظریات کی روشنی میں حیات کا معنی، حیات خداوندی پر عقلی دلائل، آیات کی روشنی میں اللہ کے حی ہونے کا ثابت کرنا وغیرہ اس درس میں بیان ہواہے۔
اس درس میں پہلے درس کے تسلسل میں اللہ تعالی کی صفت حی پر عقلی دلائل بیان ہو رہے ہیں، اسی طرح اس درس میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ اللہ کی ذات بسیط مجرد ہے، بساطت اور تجرد کا معنی کیا ہے وہ بھی بیان ہوا اور مقتضائے بساطت اور تجرد بھی واضح الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ اسی طرح خدا کے علم کی صفت کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔
اس درس میں علم خداوندی کا علم حضوری ہونے کو بیان کیاہے، اسی طرح یہ بھی بیان کیا ہے کہ خدا کا علم کب علم حضوری ہے اور کب علم حصولی؟ کب صفات ذاتی اور کب صفت فعلی؟ ان سب نکات کی طرف اس درس میں اشارہ ہوا ہے۔
اس درس میں علم خداوندی کا علم حضوری ہونے کو بیان کیاہے، اسی طرح یہ بھی بیان کیا ہے کہ خدا کا علم کب علم حضوری ہے اور کب علم حصولی؟ کب صفات ذاتی اور کب صفت فعلی؟ ان سب نکات کی طرف اس درس میں اشارہ ہوا ہے۔
اس درس میں علم خداوندی کا علم حضوری ہونے کو بیان کیاہے، اسی طرح یہ بھی بیان کیا ہے کہ خدا کا علم کب علم حضوری ہے اور کب علم حصولی؟ کب صفات ذاتی اور کب صفت فعلی؟ ان سب نکات کی طرف اس درس میں اشارہ ہوا ہے۔
اس درس میں "قادر" کے معانی بیان ہوئے ہیں، اللہ تعالی کے قادر ہونے کا مطلب کیا ہے، یہ صفت کس طرح صفت ثبوتیہ اور صفت ذاتیہ میں سے ہے یہ سب اس درس میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔
اس درس میں خدا کی قدرت سے متعلق دلائل بیان کیا ہے، مخلوقات کی قدرت دلیل ہے کہ خالق میں یہ صفت بطور اکمل موجود ہے، اس کے علاوہ برہان نظم سے اللہ کی قدرت پر استدلال کو بھی بیان کیاہے۔
اس درس میں بھی اللہ کے قادر ہونے کے دلائل پیش کیا ہے، اس سلسلے میں آیات قرآنی سے استدلال کیاہے، اس سلسلے میں اس شبہہ کا جواب بھی دیا ہے کہ کیا اللہ قبیح کاموں کو بھی انجام دینے پر بھی قادر ہے یا نہیں؟
اس درس میں یہ بیان ہوئی ہے کہ اللہ تعالی مرید ہے، صاحب ارادہ والی ہستی ہے، ارادہ کیاہے اس کا لغوی اور اصطلاحی معنی بھی بیان کیا ہے، قرآن کریم میں لفظ ارادہ اور اس کے مشتقات کہاں کہاں استفادہ ہوا ہے یہ سب اس درس میں بیان ہوئے ہیں۔
اس درس میں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ اللہ تعالی کی صفت ارادہ کیا صفات فعلی میں سے یا ذاتی میں سے؟ اسی طرح متکلمین کے آراء کی روشنی میں اس صفت کے اللہ کے لیے ذاتی ہونے یا فعلی ہونے کے دلائل بیان کیاہے۔
علم الکلام کو کیوں علم کلام کہا؟ اللہ تعالی کا متکلم ہونا، کلام کا معنی کیا ہے؟ کلام الہی پر اک اشارہ کہ کلام الہی صفت فعلی ہے یاذاتی؟ کلام الہی سے مراد کیا ہے؟ اور دیگر اہم نکات کی طرف بھی اشارہ کیاہے
اللہ کا کسی شے میں کلام ایجاد کرنا، ایک قسم کا کلام ہے، اس درس میں اس بات کو واضح کیا ہے کہ کب کلام الہی قدیم اور ذاتی بنے گا اور کب حادث اور فعلی بنے گا؟
74 اللہ تعالی کی صفات اور اسماء (24) -محمد علی رمضانی
اس درس میں حکمت کے لغوی اور اصطلاحی معانی بیان ہوئی ہیں، دو نہایت ہی اہم معنی حکمت کے لیے بیان ہوئے ہیں، اللہ تعالی کی حکمت ان میں سے کس معنی میں ہے؟
اس درس میں حکمت الہی کے کئی دیگر پہلوؤں کو بیان کیا ہے، اللہ تعالی کے حکیم ہونے کی دلائل بھی بیان ہوئے ہیں۔ بعض باتیں فہرست وار گذشتہ ابحاث سے متعلق اور بعض اہم نکات آئندہ ابحاث کے بارے میں بھی بیان ہوئے ہیں۔
صفات سلبیہ کیا ہے؟ مولا علی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق نفی صفات سلبیہ کیاہے؟ جنس و فصل کی ترکیب کی حقیقت کیا ہے؟ یہ اللہ میں کیوں نا ممکن ہے؟ اللہ کی ذات میں کسی طور بھی ترکیب کا ممکن نہ ہونا دلائل کے ساتھ بیان کیا ہے۔
اس درس میں ترکیب کی بعض دیگر لوازمات بیان ہوئے ہیں، خدا کی ذات کی کا ہر قسم کے نقص سے پاک ہونا خدا کا مرکب نہ ہونے پر دلائل، ہر قسم کی ترکیب سے خدا کی ذات کا منزہ ہونا دلیل سے ثابت کیا ہے۔ ان سب کو جاننے کےلیے آپ ویڈیو مشاہدہ کریں۔
اس درس میں اللہ تعالی کی ذات کا جسمیت سےپاک و منزہ کو دلیل سے ثابت کر رہے ہیں، جسم کی حقیقت اور تعریف بھی اس درس میں بیان ہوئی ہے، جسم کے لوازمات، خصوصیات اور دیگر عوارض اور خدا کا ان سے پاک ہو و منزہ ہونا بھی اس درس میں بیان ہوئی ہے۔ ان سب کو جاننے کےلیے آپ ویڈیو مشاہدہ کریں۔
اس درس میں جسمیت کے بعض دیگر عوارض کا تذکرہ ہوا ہے اور اس بات کو دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ اللہ تعالی کی ذات ان تمام عوارض سے پاک و منزہ ہے، اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ اللہ کا جسمیت سے پاک ہونا جس طرح عقلی دلائل سے ثابت ہے اسی طرح دلیل نقلی اور خاص کر قرآن کریم سے ثاب ہے۔ ان سب کو جاننے کےلیے آپ ویڈیو مشاہدہ کریں۔
اس درس میں بعض دیگر دلائل نقلی سے ثابت کیا ہے اللہ جسم نہیں رکھتا ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی بیان ہوا ہے کہ کس طرح جسم و صورت ایک واجب الوجود ہستی کے لیے قبیح ہے، اور ساتھ ہی اس درس میں امام رضا علیہ السلام کا فرمان بھی اللہ کی جسمیت سے متعلق بیان ہوئی ہے۔ ان سب کو جاننے کےلیے آپ ویڈیو مشاہدہ کریں۔
اس درس میں اللہ تعالی کی ذات کا زمان اور مکان سے عاری اور منزہ ہونے کو بیان کیا ہے۔ زمان ومکان کا ممکن الوجود کے ساتھ مخصوص ہونا، اسی طرح اس درس میں اللہ تعالی سے جہت کی بھی نفی کرنے کو دلائل سے ثاب کیا ہے، کہ جہت خود کیا چیز ہے اور کیوں اور کیسے اللہ کی ذات اس سے پاک ہے۔ ان سب کو جاننے کےلیے آپ ویڈیو مشاہدہ کریں۔
اس درس میں اللہ تعالی کی ذات سے حوادث ، حالات اور تغیر و تبدل سے پاک و منزہ ہونے کو بیان کیا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالی کی ذات کے دیکھنے کو ناممکن ہونے کو مختلف دلائل سے ثابت کیاہے ۔ اور یہ بھی بیان ہے کہ دیکھی جانے والی چیزوں کی خصوصیت کیاہے۔ ان سب کو جاننے کےلیے آپ ویڈیو مشاہدہ کریں۔
اس درس میں اللہ تعالی کی ذات سے نفی رؤیت کو دلائل سے ثابت کیا ہے۔ اور ساتھ ہی دیکھے جانے والی چیزوں کے اقسام بیان کیاہے اور اللہ کسی بھی قسم کی قابل دید شے نہیں ہے۔ اور بعض شبہات کا جواب بھی دیا ہے جو بعض لوگوں کی طرف سے اٹھائے گئے ہیں۔ ان سب کو جاننے کےلیے آپ ویڈیو مشاہدہ کریں۔
اس درس میں توحید خداوندی کے مفہوم کو واضح کیاہے ، علم کلام کی رو سے باب توحید میں دو زاویے سے بحث کرنا،ان دو زوایوں اس سب بمعہ دلائل بھی بیان کیا ہے۔ انبیاء اور ائمہ کے پیغامات اور تعلیمات کا مرکز، محور اور مشترک نکتہ اللہ کی وحدانیت ہے۔ ان سب کو جاننے کےلیے آپ ویڈیو مشاہدہ کریں۔
اس درس میں عقیدہ توحید کو شروع کر رہے ہیں؛ اس لیے عقیدہ توحید پر دلائل کا آغاز کرتے ہوئے ایک اہم دلیل کو بیان کرتے ہیں وہ دلیل نظم ہے اب یہ دلیل نظم کیا ہے اور کس طرح سے اس سے اللہ کی وحدانیت کو ثابت کرتے ہیں؟ آپ درس کو مشاہدہ فرمائیں۔
اس درس میں عقیدہ توحید پر پیش کئے جانے والی دلائل کے سلسلے میں توحید کے اقسام کی طرف اشارہ کیا ہے، اس کے علاوہ توحید ذاتی کی مزید وحاحتیں بیان ہوئی ہیں، اب توحید کے اقسام کیا ہیں؟ حقیقت توحید کیا ہے؟ ان سب کو جاننے کےلیے آپ ویڈیو مشاہدہ کریں۔
اس درس میں گذشتہ دروس سے مربوط حقیقت توحید کو مزید بہتر انداز میں واضح کیا ہے، اس درس میں یہ بھی بیان ہو رہا ہے کہ اللہ کے لیے دو ہونا کیوں نا ممکن ہے؟ متماثلین کیا ہیں؟ ایک خوبصورت اور واضح بیان سے اس حقیقت کو عقیدہ توحید میں بیان ہوئی ہے۔ مشاہدہ فرمائیں۔
اس درس میں عقیدہ توحید پر پیش کی جانے والی دلائل میں سے ایک دلیل عقلی کو بیان کی جا رہی ہے، وہ یہ تھی کہ اللہ کی ذات میں دو ہونا ممکن نہیں اس دلیل کو دو طریقوں سے بیان کیا تھا ایک طریقہ پہلے بیان کیا تھا اس درس میں ایک طریقے سے اس دلیل کو بیان کیا ہے مشاہدہ فرمائیں۔
اس درس میں عقیدہ توحید پر مزید دلائل پیش کئے جا رہے ہیں، ان میں سے ایک دلیل یہ ہے اگر واجب الوجود میں تکثر اور کثرت فرض کیا جائے تو کونسی مشکل پیش آئے گی؟ کس طرح سے واجب الوجود میں تکثر تسلسل تک پہنچا دیتا ہے؟ اس اہم دلیل کو سمجھنے کے ویڈیو مشاہدفرمائیں۔
اس درس میں عقیدہ توحید پر مزید دلائل پیش کئے جا رہے ہیں ، اب تک دلائل عقلی بیان ہو رہی تھی لیکن اس درس میں آیات قرآنی سے استدلال کرتے ہوئے عقیدہ توحید کی وضاحت کی ہے؛ کہ کس طرح آیات الہی میں توحید کے مسئلے کو واضح انداز میں بیان کیا ہے۔ یہ آپ اس ویڈیو میں مشاہدہ کر سکتے ہیں۔
اس درس میں توحید صفاتی کو بیان کیا جا رہا ہے، توحید صفاتی سے مراد کیا ہے، توحید ذاتی اور توحید صفاتی میں کیا فرق ہے، یہ نہایت اہم موضوع ہے توحیدی ابحاث میں۔ اس کے علاوہ بعض تمہیدی نکات کی طرف اشارہ ہو رہا ہے، یہ سب جاننے کے لیے آپ ویڈیو مشاہدہ فرمائیں۔
اس درس میں توحید صفاتی میں اللہ کی ذات اور صفات ایک ہی ہے، صفات ذات سے زاید کوئی شے نہیں ہے ،ان دونوں میں تفکیک ممکن نہیں ہے، اگر اللہ تعالی کی ذات اور صفات میں جدائی ممکن ہو تو کیا مشکل پیش آئے گی؟ اس سلسلے میں نہایت ہی کلیدی گفتگو ہوئی ہے آپ ویڈیو کو مشاہدہ فرمائیں۔
اس درس میں ایک نہایت ہی خوبصورت پہلو کو زیر گفتگو لا یا جا رہا ہے، اگر چہ بعض باتیں پہلے بیان ہوچکی ہے لیکن چونکہ یہ آنے والے ابحاث کا پیش خیمہ ہے اس لیے یہ گفتگو نہایت اہمیت کا حامل ہے واجب الوجود اور اس کی صفات کا ایک ہونا عقیدہ توحید کی کلیدی گفتگو ہے ۔ ویڈیو مشاہدہ فرمائیں۔
اس درس میں توحید صفاتی کے نہایت ہی اہم بحث کا آغاز ہو رہا ہے، بعض مفکرین کی نگاہ میں بعض ذاتی صفات کوئی الگ سی چیز نہیں بلکہ ذات ہی ان صفات کی عکاسی کرتی ہے، اس فکر کی جانچ پڑتال اس درس میں بیان ہوئی ہے۔ ویڈیو مشاہدہ فرمائیں
اس درس میں توحید صفاتی کے بارے میں اشعریہ اور معتزلہ مسلک کے علماء کی نظریات کو بیان کیا جا رہا ہے۔ ان دونوں مسالک کے نظریات میں کیا تفاوت ہے؟ ان دونوں میں کون سا نظریہ حق کے قریب ہے؟ اس اہم ٹاپک کو اس درس میں بیان کیا جارہا ہے۔ آپ ویڈیو مشاہدہ فرمائیں۔
اشعری اور معتزلی نظریہ کے باطل ہونے کی دلیل. اور مکتب تشیع اور اثنی عشریہ کے حقانیت کے بارے میں بیان که صفات الہی ذات الہی سے جدا نہیں بلکہ عین ذات ہیں. کیونکہ اگر جدا ہونگے تو اس صورت میں تمام صفات کا قدیم ہونا ضروری ہوگا. اس طرح ہر صفت واجب الوجود اور دائمی بن جائے گی. مزید جاننے کیلئے آئیے دیکھتے ہیں. ..
خالقیت میں توحید اور خدا کا تنہا خالق ہونے کے بارے میں بیان، دنیا کی تمام موجودات کا فیض اور کمال خدا کی طرف سے ہے. دنیا میں کسی چیز کی قدرت اور طاقت ذاتی نہیں بلکہ خدا کی عطا ہوتی ہے. مزید جاننے کیلئے آئیے دیکھتے ہیں. ..
ماسوی الله یعنی الله تعالی کے علاوه ہر چیز ممکن الوجود ہے. اور یہ اپنی پیدائش اور بقاء میں خدا کا محتاج ہے، دنیا کی کوئی بھی چیز کسی چیز کو آزادانہ طور پر انجام نہیں دے سکتا، بلکہ اس میں خدا کی مشیت لازمی ہوتی ہے. اس سلسلے میں عقلی دلیل بیان کیا گیا ہے ، یہ دلیل عقلی کیا ہے؟ اسے جاننے کیلئے آئیے دیکھتے ہیں. ..
اللہ تعالی کے خالق ہونے کیلئے منقولہ دلائل کیا ہیں؟ قرآن مجید کی سورہ رعد آیت نمبر 16 اور سورہ زمر آیت نمبر 62 اور اسی طرح نہج البلاغہ میں مولائے کائنات کا خدا کی خالقیت کے بارے میں بہترین انداز میں اس مسئلے کو واضح طور پر بیان. مزید جاننے کیلئے آئیے دیکھیں...
خدا کے مقابلے میں انسان کے اختیار اور آزادی عمل کے بارے میں اشاعرہ ، معتزلہ کے بیانات اسی طرح شیعہ مکتب فکر میں اللہ تعالی اور انسان کے عمل میں کیا تضاد پایا جاتا ہے یا نہیں؟ اسے جاننے کیلئے آئیے دیکھتے ہیں...
اشعری مسلک کے علماء انسان کے اعمال اور گناه اور ثواب کے بارے میں عقیده اور ان کے دلائل. کیا ان کا عقیده انسانی فطرت کے موافق ہے؟ یقینا ایسا نہیں، بلکه حتی کہ آج کے دور میں بھی کوئی انسان اس نظرئیے کو قبول نہیں کرسکتا. ..
اس میں شک نہیں کہ انسان میں آزادی عمل اور ارادہ موجود ہے. یہ طاقت اور قدرت اللہ نے انسان کو دیا ہے؛ تاکه انسان کا امتحان لیا جائے کہ اسے اچھے یا برے کس کام میں استعمال کرتا ہے. مکتب امامیہ کا عقیده بھی یہی ہے انسان کی آزادی اور اختیار مشیت الہی کی وجہ سے ہے....
عدلیہ یعنی مکتب امامیہ کا عقیده علت و معلول کے دلیل پر استوار ہے. اور یہ فطری اور عقلی قانون پر استوار ہے. اس سلسلے میں قرآنی آیات میں یہ بات بیان کی گئی ہیں کہ انسان اس دنیا میں امتحان کیلئے بھیجا گیا ہے. ان دلائل اور ان کی تفسیر جاننے کیلئے آئیے دیکھتے ہیں.
درباره این دوره
عقائد کی درستی، ایمان کی مضبوطی اور معرفتِ الٰہی کا پہلا زینہ ہے۔ یہ آن لائن تعلیمی کورس توحید، صفاتِ باری تعالیٰ اور الہیٰ اسماء کی گہری فہم حاصل کرنے کے لیے ایک بہترین علمی پلیٹ فارم ہے۔ اس کورس میں معروف اسکالر حجت الاسلام استاد محمد علی رمضانی اپنے مخصوص علمی اور عام فہم اندازِ تدریس کے ساتھ خدا شناسی کے مشکل اور دقیق مباحث کو نہایت آسان اور مدلل طریقے سے پیش کر رہے ہیں۔ استاد محترم کے وسیع تجربے اور قرآنی و عقلی استدلال کی بدولت آپ کو اپنے ایمان کو مضبوط کرنے اور شبہات کا علمی جواب دینے کی بہترین صلاحیت حاصل ہوگی۔
🎯 کورس کے اہداف (Course Objectives)
اللہ تعالیٰ کی صفات (ثبوتیہ و سلبیہ) اور اسماء کا گہرا اور درست شعور حاصل کرنا۔
توحید اور خدا کی وحدانیت کے مختلف مراتب (توحیدِ صفاتی، توحیدِ خالقیت) کو سمجھنا۔
عقائدِ اسلامی کے بنیادی اصولوں کو عقلی اور منقولہ (نقلی) دلائل سے ثابت کرنا۔
✨ کورس کے فوائد (Course Benefits)
معرفتِ الٰہی میں اضافہ: کائنات کے خالق کی صفاتِ کمال اور جلال کو پہچان کر عبادات میں اخلاص پیدا کرنا۔
شکوک و شبہات کا ازالہ: دورِ حاضر میں توحید اور صفاتِ خداوندی پر اٹھنے والے سوالات کے عقلی اور نقلی جوابات کی تیاری۔
آن لائن سیکھنے کی سہولت: کسی بھی وقت اور کہیں سے بھی اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے کلاسز تک آسان رسائی۔
👥 مخاطبین (Target Audience)
اسلامی عقائد اور علمِ کلام میں دلچسپی رکھنے والے تمام مرد و خواتین۔
دینی مدارس، یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلبہ و طالبات۔
وہ تمام افراد جو توحیدِ باری تعالیٰ اور خدا شناسی کے موضوع پر علمی اور تحقیقی مواد کی تلاش میں ہیں۔
📋 کورس کے اہم عنوانات (Key Topics)
اللہ تعالیٰ کی صفات اور اسماء کا جامع تعارف
علتوں کے اقسام اور حیات، علم، قدرت اور ارادۂ خداوند کا بیان
خدا کا متکلم ہونا اور حکمتِ خداوندی کی تفسیر
صفاتِ سلبیہ کا تفصیلی مطالعہ (عدمِ ترکیب، عدمِ جسمیت، عدمِ زمان و مکان، نفی حوادث و رؤیت)
اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس پر محکم عقلی و نقلی دلائل
توحیدِ صفاتی اور خالقیت میں وحدانیت کی تفصیلی تفسیر
خالقیت میں وحدانیت کے بارے میں مختلف کلامی نظریات کا تقابلی جائزہ