مقدمہ
الفصاحۃ؛ الفصاحۃ فی اللغۃ تاتی علی معنی البیان و الظھور
فصاحۃ الکلمۃ؛ ھی حسن الکلمۃ الصحیۃ صرفا
فصاحۃ الکلام؛ ھی حسن الحاصل من صحتہ۔۔
التعقید المعنوی؛ و ھو التعقید الحاصل۔۔۔
البلاغۃ؛ فی اللغۃ الفصاحۃ و ھی۔۔۔
ملاحظات؛ تقدم انہ یخل بالفصاحۃ۔۔۔
اسالیب البلاغۃ؛ یحصل طالب البلاغۃ۔۔۔
علم المعانی؛ مقدمۃ تقدم ان الکلام البلیغ۔۔۔
مواضع المسند ثمانیۃ؛ خبر المبتدا۔۔۔
الباب الاول؛ فی تقسیم الکلام الی خبر و انشا۔۔۔
المبحث الثانی؛ فی تاکید الخبر۔۔۔
تنبیھات؛ فی ادوات توکید الخبر۔۔۔
المبحث الثاث؛ فی مدلول الخبر۔۔۔
الباب الثانی؛ فی حقیقۃ الانشاء۔۔۔
المبحث الاول؛ فی الامر۔۔۔
المبحث الثانی؛ فی النھی۔۔۔
المبحث الثالث؛ فی الاستفھام۔۔۔
تنبیھات:الاول ھل کالسین و سوف۔۔۔
و کم :موضوعۃ للاستفھام و یطلب بھا۔۔۔
المبحث الرابع؛ فی التمنی۔۔۔
المبحث الخامس؛ فی النداء۔۔۔
تنبیھات؛ الاول یوضع الخبر موضع الانشاء۔۔۔
الباب الثالث؛ فی احوال المسند الیہ۔۔۔
المبحث الثانی؛ فی حذف المسند الیہ۔۔۔
المبحث الثالث؛ فی تعریف المسند الیہ۔۔۔
الفصل الثالث:فی تعریف المسند الیہ بالاشارۃ
الفصل الثانی:فی تعریف المسندالیہ بالعلمیۃ
الفصل الرابع؛ فی تعریف المسند الیہ بالموصولیہ۔۔۔۔
الفصل الخامس؛ فی تعریف المسند الیہ بال۔۔۔
الفصل السادس؛ فی تعریف المسند الیہ بالاضافۃ۔۔۔
المبحث الرابع؛ فی تنکیر المسند الیہ۔۔۔
المبحث الخامس؛ فی تقدیم المسند الیہ۔۔۔
الباب الرابع؛ فی المسند و احوال۔۔۔
المبحث الثانی؛ فی تعریف المسند المسند و تنکیرہ۔۔۔
الباب الخامس؛ فی الاطلاق و التقیید۔۔۔
المبحث الثالث؛ فی التقیید بعظف البیان۔۔۔
المبحث السادس؛ فی التقیید بضمیر الفصل۔۔۔
المبحث الثامن؛ فی التقیید بالشرط۔۔۔
تنبیھات؛ اعلم انّ المقصود۔۔۔
المبحث التاسع؛ فی التقیید بالنفی۔۔۔
المبحث العاشر؛ فی التقیید بالمفاعیل الخمسۃ۔۔۔
الباب السادس؛ فی احوال متعلقات الفعل۔۔۔
الباب الباب السابع؛ فی تعریف القصر۔۔۔
المبحث الثانی؛ فی تقسیم القصر۔۔۔
المبحث الثالث؛ فی تقسیم القصر باعتبار طرفیہ۔۔۔
الباب الثامن؛ فی الوصل و الفصل۔۔۔
المبحث الاول؛ فی مواضع الوصل۔۔۔
المبحث الثانی؛ فی مواضع الفصل۔۔۔
تنبیھان؛ الاول لمّا کانت الحال۔۔۔
الباب التاسع؛ فی الایجاز و الاطناب و المساوات۔۔۔
الثانی و ایجاز یسمی ایجاز الحذف۔۔۔
المبحث الثانی فی الاطناب و اقسامہ۔۔۔
التکریر و ھو ذکر الشی مرّتین او اکثر۔۔۔
التزییل و ھو لغۃ جعل شی۔۔۔
خاتمۃ علمت انّ البلاغۃ متوقفۃ۔۔۔
Acerca de este curso
کیا آپ عربی زبان کی گہرائیوں اور کلام کی تاثیر کو سمجھنا چاہتے ہیں؟ کیا آپ جاننا چاہتے ہیں کہ الفاظ کیسے معنی کا لباس پہنتے ہیں اور جملے کیسے سننے والے کے دل پر اثر کرتے ہیں؟ "جواھر البلاغہ" (حصہ اول: علم المعانی) کورس آپ کے لیے ایک بہترین موقع ہے۔ یہ کورس آپ کو بلاغت کے اس سمندر میں غوطہ لگانے کا راستہ دکھائے گا جہاں سے آپ فصیح و بلیغ کلام کے اصولوں سے آشنا ہوں گے۔
یہ قیمتی علمی سفر آپ کو معروف استاد، علامہ ظفرعباس شھانی دام عزہ کی رہنمائی میں طے کرنے کا موقع ملے گا۔ استاد علامہ ظفرعباس شھانی اپنے وسیع علمی تجربے اور تدریسی مہارت سے، علم المعانی کے پیچیدہ مباحث کو انتہائی آسان اور دلنشین انداز میں پیش کریں گے، تاکہ ہر طالب علم بلاغت کے ان گوہر نایاب سے مستفید ہو سکے۔
ابتدا میں، آپ فصاحتِ کلمہ و کلام، اور بلاغت کی تعریفات و اسالیب سے روشناس ہوں گے۔ پھر کلام کی اہم اقسام، یعنی خبر اور انشاء، ان کے مقاصد اور تاکید کے طریقوں کو گہرائی سے سمجھیں گے۔ اس کے بعد، جملے کے بنیادی اجزاء، مسند اور مسند الیہ کی مختلف حالتوں – جیسے ان کا حذف، تعریف، تنکیر، اور تقدیم – پر تفصیلی گفتگو ہوگی۔ آپ قصر کے مختلف اقسام، اور کلام میں وصل و فصل کے مواضع و اسرار کو بھی جانیں گے۔ کورس کے اختتام پر، ایجاز (اختصار)، اطناب (طوالت)، اور مساوات (برابری) جیسے اہم بلاغی فنون کو ان کی عملی مثالوں کے ساتھ سمجھایا جائے گا، جس سے آپ کے کلام میں نکھار اور تاثیر پیدا ہوگی۔
اس کورس میں عربی ادب اور بلاغت کی شہرہ آفاق اور مستند کتاب "جواہر البلاغہ" کو اساس بنایا گیا ہے۔ احمد الہاشمی کی یہ تصنیف علم المعانی، علم البیان اور علم البدیع پر مشتمل ہے، جس کا "علم المعانی" والا حصہ کلام کے معانی اور اس کے احوال کو سمجھنے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ کورس آپ کو اس عظیم کتاب کے نچوڑ سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے، تاکہ آپ نہ صرف عربی زبان کی باریکیوں کو سمجھ سکیں بلکہ خود بھی بلیغ و موثر کلام تخلیق کرسکیں۔