گناہانِ کبیرہ، پہچان سے پرہیز تک
میں سماجی اخلاقیاتسود خوری کے نقصانات اور معاشرے میں اسے کے تباه کن آثار کے بارے میں کسی شک و شبه کی گنجائش نهیں. اسی وجه سے خداوند متعال نے سود کھانے کے خدا اور اس کے رسول ؐ کے ساتھ جنگ کرنے کے مترادف قرار دیا هے. سود کھانے والے پر خدا کی لعنت, انبیاء ؑ اور مرسلین اور تمام شهدا ء اور صالحین کی لعنت هوتی هے . قیامت کے دن سود خور بڑے اور بھاری پیٹوں کے ساتھ محشور هونگے. سود کے مقابل میں دین اسلام نے قرض الحسنه دینے پر تاکید کی هے...
اس درس میں آثار و عواقب گناه بیان کیاگیاهے جو اقوام مختلف کو باعث عذاب، بربادی، زوال نعمت اور ...هواهے. مزید معلومات کیلئے ضرور دیکھئے گا....
یوں تو ظلم کے آثار بهت هی زیاده هیں. جس معاشرے میں ظلم عام هوں اس معاشرے میں بهت ساری مشکلات پیدا هوتی هے, اس کے علاوه ظلم کے بعض آثار ایسے بھی هیں که جو خود ظالم شخص پر نازل هوتے هیں. ان میں سے ایک تو یه هے که ظالم شخص کی عمر اور حکومت اور عزت کو بهت جلد زوال نصیب هوتا هے . ظالم شخص ظلم کرنے کے بعد اسی دنیا میں ندامت اور شرمندگی سے یقینا دچار هوتا هے. اس کے علاوه مزید آثار جاننے کیلئے اس پروگرام کو دیکھنا مت بھولئے گا...
اس پروگرام میں گناهان کبیره کی فهرست اور ساتھ هی اس موضوع سے آشنائی کی ضرورت کے حوالے سے گفتگو هوئی هے. اگر کوئی انسان اپنے آپ کو گناهان کبیره کی برائی سے دور رکھے اور خدا کا اطاعت گزار بنده بن جائے تو قرآن مجید نے اسے فوز عظیم اور فلاح سے تعبیر کیا هے. اس کے مقابل راستے کا انجام برائی اور بدبختی اور جهنم کا ٹھکانا هوگا. اس حوالے سے بهتر معلومات کیلئے آئیے اس پروگرام کو دیکھتے هیں...
اس دنیا میں تمام بلاؤں اور مشکلات کا سبب اور اسی طرح آخرت میں انسان کی عاقبت خرابی کا سبب انسان کے انجام دیئے هوئے گناه هیں جن کی وجه سے انسان اپنی دنیا کو تباه کردیتا هے اور عالم قبر میں مختلف مشکلات سے دچار هوتا هے. اس سلسلے میں قارون کی مثال دیکھئے که مال و دولت کی وجه سے کفران الهی کا شکار هوجاتا هے, اور اپنی تمام دولت کے ساتھ زمین میں زنده دھنس جاتا هے. اسی طرح قوم فرعون اور دیگر اقوام کے بارے میں معلومات جاننے کیلئے آئیے دیکھتے هیں ...
دنیا اور آخرت کی سعادت اسی میں هے که انسان الله تبارک و تعالی کے دستورات اور قوانین پر عمل پیرا هو. اس کے ساتھ ساتھ خدا کے نهی شده چیزوں سے اپنے آپ کو بچائے. خدا کا فرمان هے که تم اپنے آپ کو گناهان کبیره سے بچاؤ گے تو خدا تمهارے چھوٹے گناهوں کو خدا خودبخود معاف کردیتا هے. گناهان کبیره شقاوت قلب اور انسان کے جهنمی هونے کا سبب بنتی هیں. اس سلسلے میں مزید وضاحت جاننے کیلئے دیکھئے...
یوں تو هر گناه چاهے وه چھوٹا هی کیوں نه هو, خدا کی نافرمانی هے. لیکن بعض ایسے گناه هیں که جسے انجام دینے سے انسان جهنمی بن سکتا هے. امام صادق ؑ نے بیس گناهوں کو گناهان کبیره قرار دیا هےاور فرمایا هے که ان گناهوں کو انجام دینے والا شخص جهنمی بن سکتا هے . ان میں سے ایک شرک هے.دوسرا گناه رحمت الهی سے ناامید اور مایوس هونا هے اسی طرح اگر انسان اپنے آپ کو عذاب اور عقاب الهی سے محفوظ سمجھے, کسی کو ناحق قتل کرے, عاق والدین وغیره جاننے کیلئے کلک کیجئے ...
گناهان کبیره کے مصادیق میں سے ایک یه هے که انسان کسی یتیم کے مال کو ناحق طریقے کھائے. اسی طرح میدان جنگ سے بھاگ جانا, یا جهاد کیلئے شرکت نه کرنا, سحر اور جادو کرنا اور اسی طرح سود اور رباخواری کرنا. اس کے علاوه زنا کرنا. کسی انسان کو دھوکه دینا یا کهیں پر جھوٹی گواهی دینا یا سچی اور حق گواهی کو چھپانا , شراب خواری کرنا , جان بوجھ کر نماز کو ترک کرنا, صله رحمی نه کرنا اور اسی طرح کئے گئے وعدے سے مکر جانا وغیره ان گناهوں کی تفصیلات جاننے کیلئے دیکھئے ...
عاق والدین کا مطلب یه هے که انسان اپنے والدین کی توهین , بے ادبی یا نافرمانی کرے یا انهیں کسی بھی طریقے سے اذیت اور آزار پهونچائے. عاق والدین گناهان کبیره میں سے هے جس کی سزا صرف جهنم هے ایسا شخص کبھی بھی جنت کی خوشبو بھی سونگھ نه سکے گا. عاق والدین کے دنیا اور آخرت میں آثار کو جاننے کیلئے, اسی طرح عاق والدین کسے کهتے هیں اور کب انسان عاق والدین میں مبتلا هوسکتا هے ان تمام سوالات کے جوابات جاننے کیلئے اس ویڈیو کو ضرور دیکھئے گا.
والدین کو اذیت پهنچانے والا شخص اور ان کے حقوق کو ادا نه کرنے والا شخص ملعون هے , ایسے شخص پر خدا اور انبیاءؑ اور ائمه طاهرین ؑ اور تمام مومنین اور صالحین کی لعنت هے. حقوق والدین میں سے ایک یه هے که جب انسان کے ماں باپ بوڑھے هوجائیں تو ان کی هر طرح سے خدمت کرنا اور انهیں حتی که "اف" کا لفظ کهنے نه دینا هے. اسی طرح انهیں ناراض کرنا ان سے جھگڑنا, اور ان پر اپنے غصے کا اظهار کرنا یه سب عاق والدین میں شمار هوتا هے.
اسراف کسے کهتے هیں؟ اسراف کا لغوی اور اصطلاحی معنی کیا هے؟ اسراف کرنے والے انسان کی پهچان کیا هے؟ اسراف کرنے والے شخص پر دنیا اور آخرت میں اسراف کے کیا اثرات مرتب هوسکتے هیں؟ آخرت میں اسراف کرنے والے خدا کی بارگاه میں کیا تمنا کریں گے؟ ائمه طاهرین کی سیرت میں اور آپ حضرات کے ارشادات میں اسراف کے بارے میں کیا کچھ کها گیا هے؟ ان تمام مطالب کو جاننے کیلئے اس پروگرام پر کلک کیجئے.
دین مبین اسلام نے کھانے اور پینے میں اعتدال اپنانےکے علاوه تمام دنیوی امور میں حد اعتدال اور میانه روی کو اختیار کرنے پر زور دیا هے. قرآن مجید میں الله تعالی نے ارشاد فرمایا هے که اسراف کرنے والا شخص شیطان کا بھائی هوتا هے , امام رضا ؑ نے مومن کی دو صفات میں سے ایک صفت یه بیان کیا هے که مومن شخص کبھی بھی اسراف نهیں کرتا . اسی طرح امام علی ؑ نے مومن کیلئے تین چیزوں کو لازمی قرار دیا هے. ان مطالب کو جاننے کیلئے اس پروگرام کو دیکھنا نه بھولئے...
بے نمازی شخص کا ٹھکانا جهنم میں هے. قرآن مجید میں الله تعالی نے چند گناهوں کا تذکره کیا هے جن کی وجه سے انسان جهنم میں داخل هوتا هے انهیں گناهوں میں سے ایک گناه انسان کا نماز نه پڑھنا هے. جهنمیوں سے جب پوچھا جائے گا که تم جهنم میں کیوں داخل هوئے هو تو وه یهی کهیں گے که هم نماز نهیں پڑھا کرتے تھے . بے نمازی شخص کو روز قیامت اهل بیت ؑ کی شفاعت هرگز نصیب نهیں هوگی. نماز ترک کرنے کے مزید آثار جاننے کیلئے اس ویڈیو کو ضرور دیکھئے ...
عبادات الهی میں سب سے عظیم عبادت نماز پڑھنا هے , جس کے انجام دینےسے اس دنیا میں اور آخرت میں انسان کو بهت هی زیاده فوائد ملتے هیں . نماز نه پڑھنے کے آثار دنیا اور آخرت میں بهت هی زیاده هیں . دنیوی آثار: چهرے کی نورانیت ختم هو جاتی هے. رزق میں برکت باقی نهیں رهتی. دعا قبول نهیں هوتی وغیره . اسی طرح اخروی آثار: ذلت کی موت نصیب هوتی هے. بھوک اور پیاس کی حالت میں انسان مرجاتا هے. قبر میں مختلف قسم کے عذاب سے دچار هوتا هے . ...
یوں تو دین اسلام نے بهت ساری چیزوں کو اهمیت دی هے اور ان پر زیاده تاکید کی هے. لیکن اسلام کی بنیاد ان پانچ چیزوں پر قائم هے . نماز, روزه, زکات, حج اور ولایت آل محمد ؐ . ان تمام میں ولایت آل محمد ؐ کو بنیادی اهمیت حاصل هے. جبکه نماز تمام عبادتوں کی بنیاد هے. اگر کسی شخص کی نماز قبول هوئی تو اس کی بقیه عبادات بھی قبول هونگی, اور اگر نماز ٹھکرائی گئی تو بقیه سارے عبادات بھی قبول نهیں هونگی. نماز کی اهمیت کو بهتر جاننے کیلئے اس پروگرام کو لازمی طور پر دیکھئے گا.
قرآن مجید میں اکثر موقعوں پر نماز انجام دینے کے ساتھ ساتھ زکات دینے کا بھی حکم هوا هے . اگر انسان زکات کو اخلاص سے ادا کرے تو یه عمل ایک صدقه جاریه هوگا جس کے ذریعے سے انسان آخرت میں نجات حاصل کرتا هے. اور دنیا میں انسان کے مال اور روزی میں برکت کا سبب بنتا هے. خداوند متعال کے امتحانات میں سے ایک امتحان یهی هے که خدا کسی شخص کو مال دے کر اس کا امتحان لیتا هے که کیا وه کسی غریب شخص کو زکات دے کر اس کی مدد کرتا هے یا نهیں...
دین مبین اسلام میں زکات دینے کی بهت هی زیاده تاکید کی گئی هے. اس لئے که زکات دینے سے دنیا میں نظام عدالت برقرار هوگا. اور فقر اور بھوک اور محتاجی کا خاتمه هوگا. زکات ادا کرنے سے انسان کے باقی مال میں خدا برکت عطا فرماتا هے اسی طرح زکات نزول رحمت الهی کا ذریعه بنتا هے . زکات دینے سے انسان دنیا اور آخرت دونوں جهاں میں کامیابی حاصل کرسکتا هے. زکات کے بارے میں ائمه طاهرینؑ کے فرامین اورارشادت کو جاننے کیلئے اس پروگرام پر کلک کیجئے....
یوں تو ظلم کے آثار بهت هی زیاده هیں. جس معاشرے میں ظلم عام هوں اس معاشرے میں بهت ساری مشکلات پیدا هوتی هے, اس کے علاوه ظلم کے بعض آثار ایسے بھی هیں که جو خود ظالم شخص پر نازل هوتے هیں. ان میں سے ایک تو یه هے که ظالم شخص کی عمر اور حکومت اور عزت کو بهت جلد زوال نصیب هوتا هے . ظالم شخص ظلم کرنے کے بعد اسی دنیا میں ندامت اور شرمندگی سے یقینا دچار هوتا هے. اس کے علاوه مزید آثار جاننے کیلئے اس پروگرام کو دیکھنا مت بھولئے گا...
قطع رحمی در حقیقت صله رحمی کی ضد هے , جس کا مطلب یه هے که انسان اپنے رشته داروں کے ساتھ میل جول اور تعلقات کو ختم کردے اور ایک دوسرے ناراض ره کر رشته داری کے رشتے کو توڑ دے. روایات معصومینؑ میں ایسے شخص کو ملعون اور جهنمی کها گیا هے. قطع رحمی کے ذریعے سے انسان کی روزی میں اور انسان کی عمر میں کمی آجاتی هے. انسان کی دعا بارگاه حق میں قبول نهیں هوتی . اس کے علاوه اور بھی آثار هیں جنهیں جاننے کیلئے اس پروگرام کو غور سے دیکھنا پڑےگا.
بخل کا مطلب یه هے که جهاں پر انسان کو مال خرچ کرنا چاهیے انسان وهاں پر کنجوسی سے کام لے. بخل کی دو قسمیں هیں. الله کے حقوق میں بخل کرنا. لوگوں کے حقوق میں بخل سے کام لینا. قرآن مجید اور روایات معصومینؑ میں بخل سے بچنے کی بهت زیاده تاکید کی گئی هے. مومن کی پهچان میں سے ایک یه هے که مومن شخص بخیل اور بداخلاق نهیں هوتا. بخیل شخص خدا سے دور اور جهنم سے زیاده نزدیک هوتا هے . بخل کے بارے میں مزید معلومات کیلئے اس پروگرام کو دیکھئے ....
یتیم کا مال کھانا آگ کھانے کی مانند هے . ایسا شخص یقینی طور پر جهنمی هوتا هے. معصومین ؑ کا ارشاد گرامی هے که یتیم کیلئے باپ کی طرح رحیم اور مهربان بن جاؤ . روایات میں مومن شخص کو یتیم سے تعبیر کیا گیا هے. لهذا کسی مومن شخص کا مال اگر کوئی شخص ناحق کھائے تو گویا اس نے کسی یتیم بچے کا مال ناحق کھایا هو. حضرت علی ؑ کو ابوالایتام یعنی یتیموں کے باپ کا لقب ملا هے. یتیم کے مال کو ناحق کھانے کی بارے میں مزید جاننے کیلئے اس پروگرام کو دیکھئے. ..
دین اسلام میں انسان کے مال و دولت سے زیاده خود انسان کی ذات اور اس کی عزت اور آبروقابل احترام هے. جس قدر دین اسلام میں کسی یتیم کے مال کو خیال رکھنے کی تاکید کی گئی هے اس سےزیاده کسی یتیم کو سنبھالنے اور اس کی دیکھ بھال پر اهمیت دی گئی هے. روایت میں هے که یتیم کو دیکھ بھال کرنے والا شخص جنت میں پیغمبر اکرم ؐ کے ساتھ هوگا. جبکه یتیم کےساتھ حسن سلوک نه کرنے والا شخص جهنمی هوگا. مزید معلومات جاننے کیلئےآئیے دیکھتے هیں....
سود اور ربا سےمراد یه هے که انسان کسی بھی چیز کو واپس لیتے وقت اصل مال سے زیاده واپس لے لے. اگر کسی کو قرض دیا هے تو اصل مال سے اگر انسان ذره برابربھی اضافه لے لے تو اس صورت میں اسے سود کها جاتا هے . قرآن مجید میں الله تعالی نے فرمایا هے که جو لوگ سود لیتے هیں یه لوگ درحقیقت خدا سے جنگ کرتے هیں. ان لوگوں کا ٹھکانا جهنم کے سوا اور کهیں نهیں هوسکتا.
مومن اور صاحب ایمان کیلئے لازم هے که نه فقط خود کو بلکه دوسرے لوگوں کو بھی اس لعنت سے بچائے رکھے. اس برائی سے بچنے کا صحیح طریقه یه هے که انسان قرآن اور اهلبیت ؑ کے ارشادات پر درست انداز میں عمل پیرا هو. سود اگرچه ظاهر میں ایک فائده اور اچھا منافع هے , لیکن اس کی سماجی اور فردی اثرات بهت هی خطرناک اور گھناونے هیں . آج بھی دنیا بھر میں جهاں جهاں بھی یه لعنت موجود هے وهاں کے لوگ مختلف قسم کے اقتصادی اور معاشی پریشانیوں میں مبتلا هیں...
چغلخوری اور عیب جوئی کرنا, سحر اور جادو کرنا, اپنی عزت اور ناموس کو فروخت کرنا, زنا کرنا, حیوانات کے ساتھ بدفعلی کرنا, اپنے محرم کے ساتھ نکاح کرنا, فتنه اور اختلاف ایجاد کرنا, حربی کافر کے ساتھ مدد اور تعاون کرنا, زکات کا ادا نه کرنا, حج کے واجب هوتے هوئے حج کے فریضے کو ادا نه کرنا.ان تمام گناهوں کی تفصیلات کو جاننے کیلئے اس پروگرام کو ضرور دیکھئے...
حج کے برکات اور حج ترک کرنے کی مذمت. اگر کسی انسان پر حج واجب هوجائے اور وه شخص اپنی زندگی میں کبھی بھی حج کو نه جائے تو اس صورت میں اگر اس نے جان بوجھ کر اور بغیر کسی شرعی عذر کے حج کے فریضے کوانجام نهیں دیا تو اس نے گناه کبیره کا مرتکب هوا هے, اسی طرح حج کو تاخیر اور دیر سے انجام دینا بھی گناه هے. بعض روایات میں ایسے شخص کو جو حج انجام دینے کی قدرت رکھتا هوپھر بھی حج انجام نهیں دے تو اسے کافر قرار دیا گیا هے.
حج بیت الله کو معرفت کے ساتھ انجام دینا , انسان کیلئے دنیا اور آخرت میں باعث سعادت هے. جبکه حج کو ترک کرنے والا شخص اس سعادت سے محروم رهتا هےاور اسی گناه کی وجه سے یهودی اور نصرانیت کی موت مرتا هے اور جهنم میں چلا جاتا هے. امام جعفر صادق ؑ اور امام سجاد ؑ نے حج کی فضیلت میں کیا ارشاد فرمائے هیں ان کو جاننے کیلئے اس ویڈیو پر کلک کریں...
حقوق دو قسم کے هوتے هیں یا حق الله هے یا حق الناس. انسان کی خوشبختی اسی میں هے که انسان ان دونوں حقوق کو اچھی طرح سے انجام دے. روز قیامت فقیر اور غریب وه انسان هوگا جس نے دنیا میں کسی حق دار کا حق ادا نه کیا هو. اس دن انسان کے نیک اعمال کو دوسروں کے حقوق کے بدلے میں فروخت کیا جائے گا. اور اگر اس کے پاس نیک عمل باقی نه هو تو اس صورت میں دوسروں کے گناه اس کے ذمه ڈال دیا جائے گا.
امر بالمعروف و نهی عن المنکر کا معنی یه هے که انسان دوسرے انسانوں کو اچھے کام کی طرف دعوت دے اور انهیں برے کاموں سے دور رهنے کا مشوره دے. اس عمل کو انجام دینے والا شخص جنتی اور اسے انجام نه دینے والا شخص جهنمی هوگا. اس کو ترک کرنے کے آثار میں سے ایک تو یه هے که جس معاشرے میں یه فریضه انجام نه پائے تو خدا اس معاشرے پر کسی ظالم اور خونخوار شخص کو حاکم بنائے گا. مزید معلومات کیلئے ضرور دیکھئے گا....
اس آنلائن کلاس کے بارے میں
گناہان کبیرہ کیا ہیں؟ ان کے ہماری دنیاوی اور اخروی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ استاد حجت الاسلام محمدیوسف عابدی کے ۲۹ جامع لیکچرز پر مشتمل یہ کورس آپ کو ان تمام سوالات کے جوابات فراہم کرے گا اور گناہان کبیرہ کی گہرائیوں سے روشناس کرائے گا۔
اس کورس کا آغاز کبیرہ گناہوں کی تعریف، ان کے آثار و عواقب اور بد فعلی و زنا جیسے الزامات کی شرعی مذمت سے ہوتا ہے۔ پھر ظلم کی مختلف اقسام، والدین کے حقوق کو پامال کرنے (عاق والدین) اور اسراف کی مذمت پر تفصیلی روشنی ڈالی جاتی ہے۔ 📚
مزید یہ کورس نماز اور زکوٰۃ ترک کرنے کے نقصانات، قطع رحمی، بخل، یتیم کا مال ہڑپ کرنے، اور سود خوری کے سنگین نتائج کو تفصیل سے بیان کرتا ہے۔ یہ نہ صرف گناہوں کی فہرست اور ان کی تعداد پر بحث کرتا ہے بلکہ حج کی فضیلت، حقیقی فقیر کی پہچان، اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر (نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا) کے الٰہی دستور جیسے اہم اسلامی اصولوں کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
یہ کورس آپ کی روحانی بالیدگی اور ایک تقوائے الہی کے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے ایک مکمل رہبر ہے۔ ✨
یہ کورس کن لوگوں کے لئے ہے؟ 🎯
ہر وہ شخص جو گناہوں سے بچنا چاہتا ہے اور پاکیزہ زندگی گزارنے کا خواہشمند ہے۔
طلباء و طالبات جو اسلامی احکامات کی گہرائی کو سمجھنا چاہتے ہیں۔
وہ افراد جو اپنے والدین کے حقوق، یتیموں کی دیکھ بھال، اور معاشرتی ذمہ داریوں سے آگاہ ہونا چاہتے ہیں۔
معلمین اور مبلغین جو اسلامی تعلیمات کو مؤثر طریقے سے پیش کرنا چاہتے ہیں۔
وہ تمام مسلمان جو اپنے ایمان کو مضبوط کرنا اور اللہ کی رضا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
اس کورس کے بنیادی اہداف کیا ہیں؟
گناہان کبیرہ کی پہچان اور ان کے معاشرتی و اخروی نقصانات سے مکمل آگاہی۔
اسلامی اقدار اور حقوق جیسے والدین کے حقوق، یتیم کی دیکھ بھال، اور زکوٰۃ کی اہمیت کو گہرائی سے سمجھنا۔
اسراف، ظلم، قطع رحمی، بخل، اور سود خوری جیسی برائیوں سے بچنے کے عملی طریقے سیکھنا۔
امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فریضے کو نبھانے کی ترغیب اور رہنمائی حاصل کرنا۔
ایک متقی اور پرہیزگار زندگی گزارنے کے لیے ضروری علم اور بصیرت حاصل کرنا، جس سے دلوں کو سکون اور روح کو پاکیزگی نصیب ہو۔