اسلامی عقائد، جبر اور اختیار، عدل الہی، قضا و قدر
en Croyances de baseتاریخ اسلام میں انسان کے ارادے اور آزادی عمل کا خدا کے قدرت اور انتخاب عمل سے ٹکراؤ کے بارے میں بحث ہوئی ہیں. شیعہ مذہب کا عقیده اس بارے میں واضح ہے اور انسانی عقل کے مطابق بھی ہے. اور ہر انسان اسے بہ آسانی سمجھ بھی سکتا ہے. ..
اس دنیا میں جو کچھ بھی ہورہا ہے وه مشیت الہی کے مطابق ہے. مکتب امامیہ کے نزدیک ایک دلیل یہ بھی ہے کہ انسان اس دنیا میں مسئول اور ذمہ دار ہے. اللہ تعالی نے اس دنیا میں حلال اور حرام امور قرار دیے ہیں اگر انسان اپنے عمل میں مجبور ہو تو اس صورت میں امتحان اور آزمائش بے کار اور عبث عمل ہوگا. ...
اختیاری افعال اور غیر اختیاری افعال کے بارے میں توضیحات؛ اس کے علاوه ایک اور دلیل قیامت اور معاد کے بارے میں ہے. قیامت میں سزا اور جزا کا عمل خود انسان کے بااختیار ہونے کی دلیل ہے. مزید جاننے کیلئے آئیے دیکھتے ہیں....
جبر اور اختیار کے بارے میں تاریخی پس منظر کا بیان. جبری نظریئے کا آغاز بنی امیہ کے دور سے شروع ہوتا ہے. جو اپنے ظلم و ستم کی توجیہ کی خاطر جبری نظریئے کو ترویج کرتے تھے. مزید جاننے کیلئے آئیے دیکھتے ہیں...
اسلام سے قبل مشرکین جبر کے قائل تھے. اور وه اپنے آپ کو مجبور سمجھتے تھے. سوره انعام/148 اور سوره زخرف/ 20 میں اس کی طرف اشاره ہوا ہے.ان آیات کی تفصیل جاننے کیلئے آئیے دیکھتے ہیں. ...
معتزلی مکتب، انسان کے آزادی عمل کے قائل ہیں. ان کی دلیل یہ ہے کہ اگر ہم جبر کے قائل ہوجائیں تو اس صورت میں جزا و عقاب بے معنی ہوگا. نظریہ تفویض کے بارے میں مزید تفصیلات اور ان کے ابطال کے بارے میں جاننے کیلئے آئیے دیکھتے ہیں.
جبر اور تفویض کے علاوه ایک اور نظریہ ہے جو درست اور حق نظریہ ہے، اور مکتب امامیہ اس نظریئے کا قائل ہے جو جبر اور تفویض کے مقابلے میں ایک درمیانی نظریہ ہے. اس بارے میں جاننے کیلئے آئیے مل کر دیکھتے ہیں...
کیا انسان کے اعمال اور خدا کے اعمال میں ٹکراؤ ہے؟ امام صادق علیه السلام کا اس بارے میں بہترین بیان، لاجبر و لاتفویض ولکن الامر بین الامرین. اسی طرح مولائے کائنات کا اس سلسلے میں بہترین تمثیل. مزید جاننے کیلئے آئیے دیکھتے ہیں...
عبادت میں وحدانیت کا مطلب یہ ہے کہ عبادت صرف اور صرف اللہ ہی کیلئے مخصوص ہے. اور یہ تمام مسلمانوں کا عقیده ہے کہ سوائے اللہ کے کسی کی عبادت جائز اور درست نہیں. لفظ عبادت کا لغوی اور اصطلاحی معنی...
خدا کے ربوبیت کے اعتقاد کے ساتھ خضوع و خشوع کرنا درحقیقت عبادت کے مفہوم میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے. اسی وجه سے والدین اور بزرگوں کے سامنے احترام اور تواضع عبادت نہیں کہا جاتا. مزید جاننے کیلئے آئیے دیکھتے ہیں.
بعض لوگ ہر قسم کے تواضع اور انکسار کو عبادت سمجھتے ہیں، جبکہ عبادت کے مفهوم میں بنیادی چیز معبود کو اپنا رب اور الہ سمجھنا لازمی ہے. لہذا صرف احترام کرنا عبادت نہیں ہے. اس نکتے کی تفصیلات جاننے کیلئے اس ویڈیو کو ضرور دیکھیں...
حضرت آدمؑ کیلئے سجدے کا واقعہ، جس میں فرشتوں نے حضرت آدمؑ کا سجده کیا لیکن شیطان نے نہیں کیا. کیا آدمؑ کا سجده غیر الله کیلئے سجده نہیں. کیا یہ شرک نہیں. کعبے کی طرف سجدہ کیا اینٹ اور دیوار کو سجدہ نہیں؟ اس سلسلے میں مزید جاننے کیلئے آئیے دیکھتے ہیں...
بعض لوگ شرک کے بہانے دوسروں کے خون کو حلال سمجھتے ہیں، جبکہ وه عبادت میں وحدانیت کے معنی سے ناواقف ہیں. داستان حضرت یوسفؑ جس میں جناب یعقوبؑ انہیں سجده کرتے ہیں. کیا یہ صحیح ہے؟ مزید جاننے کیلئے آئیے دیکھتے ہیں...
ربوبیت تسبیب کسے کہتے ہیں؟ اور یہ ربوبیت کیا خدا کی ربانیت سے تضاد رکھتی ہے؟ ربوبیت ظاہری اور ربوبیت واقعی میں کیا فرق ہے؟ ربوبیت کے بارے میں مزید جاننے کیلئے آئیے دیکھتے ہیں.
ربوبیت کسے کہتے ہیں؟ ربوبیت تکوینی اور ربوبیت تشریعی کے بارے میں وضاحت، ربوبیت تکوینی اور تشریعی میں کیا فرق ہے؟ دنیوی امور میں ان دونوں کیلئے مثال اور توضیح. مزید جاننے کیلئے آئیے دیکھتے ہیں.
ربوبیت تکوینی اور تشریعی میں وحدانیت کیلئے مثال کے ذریعے سے وضاحت، ربوبیت تکوینی یعنی دنیا میں خیر اور شر، قبض روح وغیره سب خدا کے ہاتھ میں ہے، ربوبیت تشریعی یعنی ذی شعور مخلوقات کیلئے قوانین اور احکام بنانا. مزید جاننے کیلئے آئیے دیکھتے ہیں.
ربوبیت تکوینی کے عقیدے پر عقلی دلائل اور قرآن اور روایات میں ان کا تذکرہ. جب عقلی دلیل کے ذریعے سے خالقیت میں وحدانیت ثابت ہوجائے تو ربوبیت میں وحدانیت بھی خودبخود ثابت ہوجاتا ہے...
ربوبیت میں وحدانیت کیلئے ایک دلیل نظم کی دلیل بھی ہے. کائنات میں اس قدر دقیق نظم خود اس بات پر دلیل ہے کہ اسے ایک قادر مطلق نے بنایا ہے. جب دنیا میں ایک نظم کا قانون ہے تو پھر اسے چلانے والا بھی ایک ہی ہے. ...
ربوبیت تکوینی کیلئے سورہ یونس اور اسی طرح سوره رعد /2 میں دلیل کا بیان، البتہ بعض آیات میں جیسے نازعات/ 5 اور سوره سجده/11 میں غیر الله کی طرف تدبیر کی نسبت دی گئی ہے. اسے جاننے کیلئے آئیے دیکھتے ہیں...
ربوبیت تشریعی کا مطلب یہ ہے کہ قانون اور شریعت کا حق صرف خدا کا حاصل ہے. اس میں شک نہیں کہ ہر معاشرے کو چلانے کیلئے قوانین کی ضرورت ہوتی ہے. اب قانون بنانے کا حق کسے حاصل ہے؟ اور کیوں؟ انہیں جاننے کیلئے آئیے دیکھتے ہیں...
ربوبیت تشریعی میں یہ سوال در پیش ہے کہ قانون بنانے کا حق خدا کو کیوں حاصل ہے؟ دین اسلام میں سب انسان برابر ہیں اور کسی کو کسی پر برتری حاصل نہیں ہے. چونکہ الله ہم سب کا خالق ہے، لہذا قانون کا حق بھی اسے حاصل ہے. مزید جاننے کیلئے آئیے دیکھیں. ...
عدل الہی کی دلیل کی بنیاد «حسن و قبح عقلی» کی طرف پلٹتی ہے. یعنی عقلی بنیاد پر کوئی کام ذاتی طور پر اچھا یا برا ہوتا ہے. مکتب اشاعرہ قائل ہے کہ دنیا میں کوئی کام ذاتی طور پر اچھا یا برا نہیں بلکہ جو کچھ اللہ کہے وه برا یا اچھا ہے...
عدل الہی کی دلیل کی بنیاد «حسن و قبح عقلی» کی طرف پلٹتی ہے. یعنی عقلی بنیاد پر کوئی کام ذاتی طور پر اچھا یا برا ہوتا ہے. مکتب اشاعرہ قائل ہے کہ دنیا میں کوئی کام ذاتی طور پر اچھا یا برا نہیں بلکہ جو کچھ اللہ کہے وه برا یا اچھا ہے...
عدل الہی کے اثبات کیلئے مکتب امامیہ میں پیش کردہ چند دلائل کا بیان. عقلی دلیل جیسے دنیا میں ہر انسان ظلم کی مذمت اور اسے برا سمجھتا ہے، اور عدل و انصاف کی تعریف اوراسے اچھا سمجھتے ہیں چاہے وہ خدا کے وجود کا قائل ہو یا نہ ہو...
اشاعره کا نظریہ یہ ہے کہ افعال ذاتی طور پر اچھے یا برے نہیں ہوتے. بلکہ اگر اچھا ہے تو خدا کہتا ہے اور برا ہے تو خدا کے حکم کی وجہ سے. مکتب امامیہ کا عقلی طور پر اچھے اور برے کیلئے دوسری دلیل اور اس کی وضاحت جاننے کیلئے آئیے دیکھتے ہیں...
مکتب امامیہ کا عقلی طور پر اچھے اور برے(حسن و قبح عقلی) کیلئے تیسری دلیل اور اس کی وضاحت: اللہ تعالی اور دین کی شناخت اور اسی طرح اللہ کی اطاعت عقلی طور پر واجب ہے کیسے؟ جاننے کیلئے ضرور دیکھیں...
اشاعره کا دلیل: افعال میں حسن و قبح کا نتیجہ: اللہ مجبور ہے کہ اچھا کام انجام دے. اور برے کام انجام نہ دے. اسی طرح عقل کون ہے جو اللہ کیلئے باؤنڈری قرار دے. ہم الله کیلئے محدودیت قرار نہیں دے سکتے...
عدل کا معنی یہ ہے کہ ہر صاحب حق کو اس کا حق عطا کرنا اسی طرح دوسرا معنی یہ ہے کہ ہر چیز کو اس کی جگہ اور مقام پر رکھنا اسے عدل کہتے ہیں. مزید جاننے کیلئے آئیے دیکھتے ہیں...
عدل الہی کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی ظالم نہیں ہے جیسے سوره بقرہ/186 اور سورہ یونس / 54 میں اللہ تعالی روز قیامت اپنے عدل و انصاف کو بیان کرتا ہے. مزید جاننے کیلئے آئیے دیکھتے ہیں...
عدل کو ہر کوئی پسند اور ظلم سے نفرت کرتا ہے. البتہ انسان کسی کام میں تمام خوبی اور برائی کو سمجھ نہیں سکتا. ممکن ہے خوبی کو برا سمجھیں اور اچھائی کو برا سمجھے.الہی عدل و انصاف پر اٹھنے والے اعتراضات کا جواب.
اگر اللہ تعالی عادل ہے تو پھر اس مہربان اور رحیم اللہ نے مخلوقات کو برابر پیدا کیوں نہیں کیا. بعض کمزور اور بعض کو طاقتور بنایا ہے. کیا یہ ظلم نہیں؟ اس سلسلے میں جواب جاننے کیلئے آئیے دیکھتے ہیں...
اگر اللہ تعالی عادل ہے تو پھردنیا میں بیماریاں، کمزوریاں، موت وغیرہ نہیں ہونا چاہیے. ایک انسان جو مرنا نہیں چاہتا تو اس حالت میں اس کی موت کیا اس پر ظلم نہیں؟ جواب جاننے کیلئے آئیے دیکھتے ہیں...
دنیا میں آنے والے زلزلے طوفان سیلاب اور طبیعی آفات وغیره اسی طرح انسانی معاشرے میں پیش آنے والے جنگیں، اور قتل و غارت جس میں کئی سارے بیگناہ اور معصوم بچے مرجاتے ہیں. کیا یہ ظلم نہیں ہے؟ ...
قضاو قدر الہی کے بارے میں یہ وضاحت لازمی ہے کہ بعض لوگ جو معذور اور اپاهج پیدا ہوتے ہیں تو اس کے بدلے میں اللہ تعالی انہیں آخرت میں اضافی اجر و ثواب عطا فرمائے گا. کچھ لوگ غریب کچھ بے اولاد وغیره ہوتے ہیں تو انہیں آخرت میں اللہ عام انسانوں سے زیاده نصیب فرمائے گا. ...
قدر یعنی کسی چیز کے بارے میں اندازه مقرر کرنا. اور قضا یعنی کسی چیز کو اس کے انجام تک پہنچانا اور اس کا فیصله کرنا. قضا اور قدر کے اصطلاحی معنی اور اس کی وضاحت. یہ سب جاننے کیلئے آئیے دیکھتے ہیں.
قضاو قدر علمی اور عملی کی تعریف اور ان کے درمیان فرق. اسی طرح آیات اور روایات معصومین میں ان کا بیان، ان کے بارے میں جاننے کیلئے آئیے دیکھتے ہیں...
قضا اور قدر علمی کے بارے میں سورہ آل عمران/145 میں بیان ہوا ہے. اسی طرح سوره حدید/22 اور سورہ حجر آیت نمبر 21 میں قضا اور قدر علمی کو بیان کیا ہے. مزید جاننے کیلئے آئیے دیکھتے ہیں...
قضا اور قدر علمی کے بارے میں امام رضا ؑ کی روایت جو جناب یونس بن عبدالرحمن نے سوال پوچھا که قضا و قدر کیا ہے؟ روایت کی شرح اور تفصیل جاننے کیلئے آئیے دیکھتے ہیں..
بداء کا معنی ظهور بعد الخفاء ہے. یعنی چھپی اور مخفی چیز اگر ظاہر ہوجائے تو اسے بداء کہتے ہیں.بداء کے بارے میں امام باقرؑ کی مشہور روایت ، یہ سب جاننے کیلئے آئیے دیکھتے ہیں...
بداء کے بارے میں امام رضاؑ کی روایت، بداء کے بدولت علم ازلی خدا میں تبدیلی نہیں آسکتی. بلکہ اس سے مراد متغیر تقدیر میں تبدیلی ہے، یعنی انسان بعض متغیر کاموں میں نیکی میں رغبت پانے کیلئے اللہ تبدیلی لاتا ہے....
À propos de ce cours
عقائدِ اسلامی کی درست فہم ہی ایک مضبوط اور سچے ایمان کی بنیاد ہے۔ یہ آن لائن تعلیمی کورس اسلام کے اہم ترین اور دقیق فکری مباحث جیسے توحید، عدلِ الٰہی، اور انسان کے ارادے کی آزادی کو سمجھنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ اس اہم کورس میں معروف اسلامی اسکالر حجت الاسلام استاد محمد علی رمضانی اپنے گہرے علمی مطالعے اور منفرد، سادہ اور دلنشین اندازِ تدریس کے ساتھ ان پیچیدہ کلامی مسائل کو حل کر رہے ہیں۔ استاد محترم کا بیانیہ طلبہ کو عقلی اور نقلی ابحاث کے ذریعے عقائد کے اعلیٰ ترین مقامات تک لے جاتا ہے اور ذہنوں میں موجود تمام فکری الجھنوں کو دور کرتا ہے۔
🎯 کورس کے اہداف (Course Objectives)
جبر و اختیار، عدلِ الٰہی اور قضا و قدر جیسے اہم ترین اسلامی عقائد کی درست معرفت حاصل کرنا۔
توحیدِ ربوبیت اور توحیدِ عبادتی کے حقیقی مفہوم اور ان کے باہمی تعلق کو سمجھنا۔
عدلِ الٰہی پر اٹھنے والے دورِ حاضر کے شبہات اور سوالات کے مضبوط علمی جوابات سیکھنا۔
عقیدۂ بداء کے بنیادی فلسفے سے آگاہی حاصل کرنا۔
✨ کورس کے فوائد (Course Benefits)
فکری و نظریاتی پختگی: یہ کورس انسان کی فکری الجھنوں (جیسے قسمت اور انسان کا اپنا اختیار) کو حل کر کے عقیدے کو مضبوط بناتا ہے۔
شبہات کا مدلل دفاع: کلامی اور فلسفیانہ اعتراضات کے سامنے عقلی اور قرآنی دلائل سے گفتگو کرنے کی صلاحیت۔
آن لائن لرننگ کے ذریعے آپ دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنی سہولت کے مطابق تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔
👥 مخاطبین (Target Audience)
دینی مدارس، جامعات اور کالجوں کے طلبہ و طالبات۔
اسلامی فلسفہ، علمِ کلام اور عقائد کے موضوعات میں دلچسپی رکھنے والے محققین۔
ہر وہ مسلمان جو اللہ کی عدالت، انسانی تقدیر اور نبوت کے نظام کو گہرائی سے سمجھنا چاہتا ہے۔
📋 کورس کے اہم عنوانات (Key Topics)
جبر اور اختیار: حقیقتِ حال اور "الامر بین الامرین" (جبر اور تفویض کے درمیان کا راستہ) کی تفصیلی وضاحت۔
توحید کے مراتب: عبادت میں وحدانیت، ربوبیت میں وحدانیت اور ربوبیتِ تشریعی کا بیان۔
عدلِ الٰہی: عدل کا مفہوم، حسن و قبحِ عقلی، اور عدلِ الٰہی کو ثابت کرنے کے محکم دلائل۔
شکوک و شبہات کا ازالہ: نظامِ کائنات میں عدل پر ہونے والے اعتراضات کے تفصیلی جوابات۔
قضا و قدر اور بداء: تقدیر الٰہی کا سچا مفہوم اور عقیدۂ بداء (تقدیر میں تبدیلی) کی علمی تفسیر۔